پل میں عسرت بھی تو ٹل جاتی ہے
اپنی تقدیر بدل جاتی ہے
یوں چہ منگوئیاں کرتے کرتے
"بات سے بات نکل جاتی ہے"
نقش یادوں کے ابھرتے ہیں تب
شام جب سرمئی ڈھل جاتی ہے
کوئی تشنہ رہے ساون میں کیوں
دھرتی بھی چشمے ابل جاتی ہے
پیار و نرمی کا رویہ ہو گر
پھر کراہت بھی اٹل جاتی ہے
بھیڑ جب ہوش و توازن کھو دیں
بدتمیزی پہ ہی تُل جاتی ہے
طرحی محفل کا سماں ہو ناصؔر
چھِڑ لبوں پر یہ غزل جاتی ہے

0
24