گناہوں کی اندھیری رات صُبحِ نو میں ڈھل جائے
مرے عصیاں کی تاریکی اجالے میں بدل جائے
تڑپتا ہے یہ دل دنیا کے مال و جاہ کی خاطر
نگاہِ ناز ہو جاۓ مرا دل یہ سنبھل جاۓ
لب عیسی کی جنبش دے حیاتی مردہ جسموں کو
تمہارے نام کی برکت سے ہر آفت ہی ٹل جاۓ
نظر آتا ہے بخشش کا فقط اک آسرا مجھ کو
تمہارے عشق میں آقا یہ دل میرا پگھل جائے
غمِ دنیا سے یا رب لے بچا عتیق بسمل کو
محمد کے وسیلے سے قرار جان مل جائے

0
3