| نام کندہ ہیں درختوں پہ ہمارے اب تک |
| اور خوش رنگ ہرے سارے کے سارے اب تک |
| تو سمجھتا ہے کہیں مر چکے سارے اب تک |
| دیکھ زندہ ہیں ترے ہجر کے مارے اب تک |
| ہر شبِ وصل ہی تیرا مجھے تشنہ رکھنا |
| یاد آتے ہیں محبت کے خسارے اب تک |
| کتنے عشاق نے ہے پا لیا اک دوجے کو |
| تم کسی طور نہ ہو پائے ہمارے اب تک |
| مدتیں گزریں جفاؤں سے ہوئے سوختہ جاں |
| جسم کی راکھ سے اڑتے ہیں شرارے اب تک |
| میں نے قسمت کی جو دستک پہ نہ در تھا کھولا |
| تب سے گردش میں ہیں کمبخت ستارے اب تک |
| زندگی جھیلتے آ پہنچے در قبر سحاب |
| مال و احساں کے نہ کچھ قرض اتارے اب تک |
معلومات