| دلوں میں آپ محبّت حضور رکھتے ہیں |
| جہاں ہوں آپ ، اندھیروں میں نور رکھتے ہیں |
| جو اپنے حصّے کی خوشبو لٹا چکے پہلے |
| ہوا کے سامنے سینے ضرور رکھتے ہیں |
| کسی کے درد کو سننا بھی اک عبادت ہے |
| نہ جانے کیوں وہ سماعت کو دور رکھتے ہیں |
| کدورتیں بھی دلوں میں انہی کے پلتی ہیں |
| جو نیتّو ں میں ہمیشہ فتور رکھتے ہیں |
| بلند ہونے سے پہلے ہی سیکھ لو جھُکنا |
| جھکے شجر ہیں، جو پھل بھی ضرور رکھتے ہیں |
| وہی امیر ہیں جن کو نصیب دل ہیں غنی |
| وگرنہ بے سبب اکثر غرور رکھتے ہیں |
| ہمیں شکست نے ایسا سکھا دیا جینا |
| ہم اپنی جیت سے منزل کو دور رکھتے ہیں |
| یہ آئینے بھی دکھاتے ہیں آشنا چہرے |
| جو بے حجاب ہوں سینے میں طور رکھتے ہیں |
| زمانہ جسم کی زیبائشوں میں گم ہے مگر |
| سجا کے روح کو ہم تو سرور رکھتے ہیں |
| زمانہ رشک سے ان پر نگاہ ڈالتا ہے |
| جو اِس جہان میں پہلو میں حور رکھتے ہیں |
| سخُن میں لفظ جو طارِق ہوں ترجماں دل کے |
| یقین رکھ کہ اثر وہ ضرور رکھتے ہیں |
معلومات