جو بھی ہیں ان کے ساتھ بہت  بے نظیر ہیں
حسنین و  فاطمہ ہیں  ولیِ غدیر ہیں
عشاق ان کے دیدہ وروں میں ہیں معتبر
جو مدح خوان بن گئے روشن ضمیر ہیں
تاریکیوں میں کھو گئے جو ان سے دور ہیں
جو دل جڑے ہیں ان سے بہت مستنیر ہیں
مایوس عاصیوں کے لیے  شعر نعت کے
سر چشمۂ نجات ہیں خیرِ کثیر ہیں
یا رب ہمارا ان کے غلاموں میں ہو شمار
ہم شہرِ گنج بخش کے عاجز فقیر ہیں

0
31