جو بھی ہیں ان کے ساتھ بہت  بے نظیر ہیں
حسنین و  فاطمہ ہیں  امیرِ غدیر ہیں
خدام ان کے دیدہ وروں میں ہیں معتبر
اور مدح خواں جناب کے روشن ضمیر ہیں
تاریکیوں میں کھو گئے جو ان سے دور ہیں
جو دل جڑے ہیں ان سے بہت مستنیر ہیں
مایوس عاصیوں کے لیے  شعر نعت کے
سر چشمۂ نجات ہیں خیرِ کثیر ہیں
یا رب ہمارا ان کے غلاموں میں ہو شمار
ہم شہرِ گنج بخش کے عاجز فقیر ہیں

0
5