یوں تنہا چھوڑنے والے ابھی تو رات باقی تھی
ابھی تو غم بتانے تھے ہماری بات باقی تھی
تمھیں مطلوب تھا ہم سے خفا رہنا جدا رہنا
ہماری ذات کا محور تمھاری ذات باقی تھی
ہمارے ضبط کا بندھن ہمارے ساتھ تھا ورنہ
ہماری نم نگاہوں میں ابھی برسات باقی تھی
بڑی مشکل سے پایا تھا سہارا سکھ کی سانسوں کا
مگر قسمت میں دردوں کی لکھی سوغات باقی تھی
جلے تیری جفاؤں کے ہی ظلمی وار سے ساغر
ابھی تو کچھ رقیبوں کی بھی ظالم گھات باقی تھی

0
273