یوں تنہا چھوڑنے والے ابھی تو رات باقی تھی
ابھی تو غم سنانے تھے ہماری بات باقی تھی
بڑی عجلت کی جانے میں مگر بازی نہیں دیکھی
ابھی ہارا نہیں تھا میں ابھی تو مات باقی تھی
کبھی تو سوچ لیتے تم تمہارے بعد کیا ہو گا
زمانے میں فقط ہم کو تمھاری ذات باقی تھی
ابھی خالی سا لگتا ہے تمہاری دید کا کاسہ
سبھی کچھ پاس ہے لیکن یہی خیرات باقی تھی
ہمارے ضبط کا بندھن ہمارے ساتھ تھا ورنہ
ہماری نم نگاہوں میں ابھی برسات باقی تھی

0
336