| یوں تنہا چھوڑنے والے ابھی تو رات باقی تھی |
| ابھی تو غم سنانے تھے ہماری بات باقی تھی |
| بڑی عجلت کی جانے میں مگر بازی نہیں دیکھی |
| ابھی ہارا نہیں تھا میں ابھی تو مات باقی تھی |
| کبھی تو سوچ لیتے تم تمہارے بعد کیا ہو گا |
| زمانے میں فقط ہم کو تمھاری ذات باقی تھی |
| ابھی خالی سا لگتا ہے تمہاری دید کا کاسہ |
| سبھی کچھ پاس ہے لیکن یہی خیرات باقی تھی |
| ہمارے ضبط کا بندھن ہمارے ساتھ تھا ورنہ |
| ہماری نم نگاہوں میں ابھی برسات باقی تھی |
معلومات