یہ چاہتا ہوں ترے حسن پر غزل لکھوں
تجھے ہی آج تجھے ہی میں اپنا کل لکھوں
۔
بس ایک دید ہی تیری، مرا سہارا ہے
تجھے میں اپنی سبھی مشکلوں کا حل لکھوں
۔
تمھی ہو زندگی میری تمھی مرا سب کچھ
ترے ہی نام حیات اپنی تا اجل لکھوں
۔
کٹھن ریاضتوں کے بعد جانِ من جو ملے
عبادتوں کا میں حاصل تمھیں وہ پھل لکھوں
۔
مجھے ملے ہو مدثر کرم سے اللہ کے
میں با خدا تمھیں انعامِ لم یزل لکھوں

0
3