| کیسے کہہ دوں کہ کیا تُو نے فَراموش مُجھے |
| تیری صورت میں مِلا ہے وہ خَطاپوش مُجھے |
| شوقِ دیدار مِرا رکھتا ہے باہوش مُجھے |
| ورنہ رِندوں نے اُٹھا رکھا ہے بَردوش مُجھے |
| کوئی خوش ہے کہ ملی ہے تِری دَستار اُسے |
| میری قسمت کہ ملے ہیں تِرے پاپوش مُجھے |
| زندگی میری حجابوں کی ہے دیوار بَنی |
| میرے مرنے نے دِکھایا ہے وہ رُوپوش مُجھے |
| دل جَلایا ہے کبھی، سر کو کَٹایا ہے کبھی |
| عشق تیرے نے بنایا ہے کَفن پوش مُجھے |
| تیرے پہلو میں جو آیا تیرے جیسا ہی ہُوا |
| کر گئی تُجھ سا اے جاناں تِری آغوش مُجھے |
| محوِ حیرت ہے وُہی جس نے بھی دیکھا ہے تُجھے |
| کر چلے ہیں تیرے جلوے بُتِ خاموش مُجھے |
| دید تیری کے بِنا موت نہ آئے گی مُجھے |
| "لَنْ تَرانِیْ "نے دِلایا ہے عَجب جوش مُجھے |
| بے حجابانہ جَھلک کر گئی مدہوش مُجھے |
| اَب نہ آیا ہے نہ آئے گا کبھی ہوش مُجھے |
معلومات