وہی وحشت، وہی عالم ہے فسانہ میرا
پھر مرے شہر میں دشمن ہے زمانہ میرا
تیری گلیوں کی ہواؤں سے ہے نسبت ایسی
جیسے صحرا کی تڑپ، خاکِ ٹھکانہ میرا
بارہا تیرے ہی در پر مجھے لاتی ہے تڑپ
اب تو یہ حال بھی خود سے ہے بے گانہ میرا
لوگ کہتے ہیں کہ پتھر بھی وہاں ملتے ہیں
آؤ، اب دیکھ ہی لو تم بھی نشانہ میرا
درد کی جستجو ہے گر جو تمنا اس کی
پھر تو بنتا ہے وہاں روز ہی جانا میرا
ایک ہی میری وہ غلطی جو وہ بھولے ہی نہ تھے
بن گیا شہر میں رسوائی فسانہ میرا
خالی ہاتھوں ہی پلٹ آنا مقدر ٹھہرا
درد ہی بن گیا اب تو یہ خزانہ میرا

0
9