مری خاطر کوئی لمحہ، کوئی موسم نہیں ٹھہرا
مگر میری مشقت سے کئی گھر بار روشن ہیں
مری محرومیوں کا ذکر بے معنی نہیں لیکن
مرے حصے کی تاریکی میں کتنے خواب روشن ہیں
کسی کی آرزو کو میں نے اپنا فرض سمجھا تھا
کسی کی زندگی کو اپنی ہستی سے سنوارا تھا
مگر جس ذات کو اک عمر میں نے ملتوی رکھا
اسی نے آخرِ شب مجھ سے اپنا قرض مانگا تھا
مرے ایثار کا حاصل مرے اطراف زندہ ہے
مرے حصے کا خواب اب بھی کسی تعبیر سے محروم
میں ان کی زندگی کو کس طرح بے معنی سمجھوں گا
مگر اپنی ہی ہستی کا کروں کس طور سے مفہوم؟

0
3