چلو، دل کی صدائی جا رہی ہے
جنوں کی رہنمائی جا رہی ہے
ازل کے خامشی خانے سے یارو
صدا کوئی سنائی جا رہی ہے
میں جس کو ڈھونڈتا ہوں خود میں اکثر
وہی صورت چھپائی جا رہی ہے
یہ دل ہے یا حرم کی روشنی ہے
کہ ہر دھڑکن دعائی جا رہی ہے
جہاں سجدہ ہوا تھا، ایک لمحہ
وہی ساعت جگائی جا رہی ہے
میں پیہم ہار کر حیران ہوں کیوں
کہ ہارے میں کمائی جا رہی ہے
ابھی دل میں عجب اک نور برپا
خطا بھی نیک نیتی جا رہی ہے
کہہ دو سبدر، سکوتِ جاں نہ توڑے
یہ خاموشی خدائی جا رہی ہے

0
4