| مگر یہ تو حقیقت ہے!!! |
| —— |
| حُسین اِبنِ علیؑ نے وقتِ ہجرت سے ذرا پہلے |
| بنو ہاشم کے لوگوں کے لیے تحریر چھوڑی تھی |
| تو اُس تحریر کے اندر فقط دو ہی تو سطریں تھیں |
| کہ میرے ساتھ آؤ گے تو تُم بھی مارے جاؤ گے |
| وگرنہ زندگی بھر چین سے بھی جی نہ پاؤ گے |
| یہ سچ ہے اُن میں کوئی ساتھ دینے تو نہیں آیا |
| سبھی نے عُذر ڈھونڈے اور سبھی نے معذرت کر لی |
| تو اپنوں کے رویّوں سے بُہت مایوس ہو کر پھر |
| نبیﷺ کی قبر پر جا کر مُسلسل گِڑگِڑائے تھے |
| کہ نانا جان اب یہ شہر رہنے کے نہیں قابل |
| ہزاروں خط تو وہ بھی تھے جو کُوفے والوں نے لِکھے |
| وہی کُوفی جو اپنی جاں نِچھاور کر رہے تھے پر |
| ذرا سے خوف کے پیشِ نظر ہی ڈگمگا اُٹھے |
| وہی کُوفی جو اپنی بَیعَتوں سے مُنحرف ٹھہرے |
| کوئی مانے کہ جُھٹلائے مگر یہ تو حقیقت ہے |
| نبی کے بھی نواسے پر اگر اُفتاد پڑ جائے |
| تو اہلِ کُوفہ اور اہلِ مدینہ ایک جیسے ہیں |
| (مرزا رضی اُلرّحمان) |
معلومات