بس تری چاہ میں ہاروں خود کو
کیسے چاہت میں بگاڑوں خود کو
خواب الجھے ہیں مرے ہاتھوں میں
کس طرح ان سے گزاروں خود کو
میرے جذبوں کی حقیقت کیا ہے
کیسے لفظوں میں اُتاروں خود کو
تیرے معیار پہ پورا اتروں
اور کتنا میں سنواروں خود کو
تیرے وعدوں پہ بھروسہ کر کے
اور کتنا میں سنبھالوں خود کو
تیری قربت کی طلب ہے مجھ کو
کیسے لمحوں میں مٹاؤں خود کو

0
7