ساری دنیا لگے خلاف مجھے
ہو گیا عین شین قاف مجھے
ہے گناہوں کا اعتراف مجھے
میرے اللہ کر معاف مجھے
یہ بھی لکھ دے مرے مقدر میں
تیرے گھر کے ملیں طواف مجھے
آپ سے اور میں کروں شکوہ
آپ سے اور اختلاف مجھے
چھوڑ دی میں نے مے پرستی ہے
دوستو کیجیے معاف مجھے
دل کی دل میں جو آپ رکھتے ہیں
آج بتلا دیں صاف صاف مجھے
عہد و پیمان بعد میں کرنا
پہلے کرنے دے دل تو صاف مجھے
مرنا چاہوں نہ میں کبھی ہر چند
موت سے ہے نہ انحراف مجھے
بچ سکا حسن کے نہ وار سے میں
چوٹ آئی ہے دل شگاف مجھے
روز کھلتے ہیں بھید دنیا کے
روز ہو تے ہیں انکشاف مجھے
اٹھ کے بھاگوں نہ میں لحد سے کہیں
کس کے چڑھا دیا غلاف مجھے
تھی توقع وفا کی تجھ سے بہت
تیری فطرت کے بر خلاف مجھے
نہ ہی بستر ہے قبر میں قادر
نہ میسر کوئی لحاف مجھے

0
3