حال پر میرے کچھ کرم کیجئے
دوریاں تھوڑی سی تو کم کیجئیے
۔
دھڑکنیں بن کے دل میں دھڑکیں آپ
مجھ میں یوں اپنی روح ضم کیجے
۔
عشق کا میرے کچھ بھرم رکھیے
یوں نہ دیوانے پر ستم کیجئے
۔
چھوڑ کر یہ غرور سر اپنا
عشق کے سامنے تو خم کیجئے
۔
شوق سے دل کو میں سجاتا ہوں
کبھی اپنا اسے حرم کیجئے
۔
سانس لینے میں ہے بہت مشکل
اپنی سانسوں سے مجھ پہ دم کیجئیے
۔
مثل موسی مجھے ہے شوق کلام
آپ بھی طور تھوڑا خم کیجے

0
29