| حال پر میرے کچھ کرم کیجئے |
| دوریاں تھوڑی سی تو کم کیجئیے |
| ۔ |
| دھڑکنیں بن کے دل میں دھڑکیں آپ |
| مجھ میں یوں اپنی روح ضم کیجے |
| ۔ |
| عشق کا میرے کچھ بھرم رکھیے |
| یوں نہ دیوانے پر ستم کیجئے |
| ۔ |
| چھوڑ کر یہ غرور سر اپنا |
| عشق کے سامنے تو خم کیجئے |
| ۔ |
| شوق سے دل کو میں سجاتا ہوں |
| کبھی اپنا اسے حرم کیجئے |
| ۔ |
| سانس لینے میں ہے بہت مشکل |
| اپنی سانسوں سے مجھ پہ دم کیجئیے |
| ۔ |
| مثل موسی مجھے ہے شوق کلام |
| آپ بھی طور تھوڑا خم کیجے |
معلومات