| ہزار طوفاں جو میری نظر کے ساحل میں ہیں |
| یوں لگتا ہے ابھی تکمیل کے مراحل میں ہیں |
| مجھے نہیں ہے شکوہ کسی بھی دشمن سے اب |
| یہاں تو میرے اپنے مرے مقابل میں ہیں |
| لگا کے سینے سے وہ بے جان کر دیتا ہے |
| عجب کرشمے اب اُس کے لمسِ قاتل میں ہیں |
| سنے گا کون سوا تیرے دردِ دل یا مالک |
| تو دیکھ اب تیرے بندے کتنی مشکل میں ہیں |
| مسافتِ شب ہے اور میں ریزہ ریزہ ساغر |
| اجاڑ رستے الگ ہیں جو میری منزل میں ہیں |
معلومات