ہزار طوفاں جو میری نظر کے ساحل میں ہیں
یوں لگتا ہے ابھی تکمیل کے مراحل میں ہیں
مجھے نہیں ہے شکوہ کسی بھی دشمن سے اب
یہاں تو میرے اپنے مرے مقابل میں ہیں
لگا کے سینے سے وہ بے جان کر دیتا ہے
عجب کرشمے اب اُس کے لمسِ قاتل میں ہیں
سنے گا کون سوا تیرے دردِ دل یا مالک
تو دیکھ اب تیرے بندے کتنی مشکل میں ہیں
مسافتِ شب ہے اور میں ریزہ ریزہ ساغر
اجاڑ رستے الگ ہیں جو میری منزل میں ہیں

0
6