کسی کے نام کی خوشبو سفر میں ساتھ رہی
ہوا بھی جیسے ، ہر اک رہ گزر میں ساتھ رہی
تمام عمر کھلے در کی جستجو میں کٹی
عجیب بات تھی، دیوار گھر میں ساتھ رہی
بنا کے پانی بہایا وہ خاک میں اپنی
پر ایک پیاس مری چشمِ تر میں ساتھ رہی
وہ ایک شاخ جو ٹوٹی تو یوں لگا مجھ کو
تمام دھوپ مرے بال و پر میں ساتھ رہی
کئی چراغ بجھے، راستے کئی بدلے
مگر امید مرے بام و در میں ساتھ رہی
میں جس کو چھوڑ کے آیا تھا ایک مدت سے
وہی صدائے قدم اب سفر میں ساتھ رہی
کوئی بھی شخص مکمل نہیں ملا مجھ کو
کمی سی جیسے مرے ہر ہنر میں ساتھ رہی
غزل نے مجھ کو سکھایا سکوت کا لہجہ
اسی لیے مری آواز ڈر میں ساتھ رہی
وہ ایک پہلی ملاقات نقش ہے دل میں
تمام عمر وہ طارِقؔ ، نظر میں ساتھ رہی

0
7