اب بھی خود سے ڈرتے ہو؟
اور جیون پر مرتے ہو؟
خود کو بنانے کی خاطر
جانے کیا کیا کرتے ہو
جس نے تجھ کو لُوٹا ہے
اس کا دم تم بھرتے ہو
اگلے کھا گئے ماس تِرا
اور تم گھاس ہی چرتے ہو
جب اندر بدصورت ہے
تو پھر کاہے سنورتے ہو
کیا نہیں دیکھا ہے غربت کو
اِس رہ سے تو گزرتے ہو
سردی آندھی جاڑے میں
کیا تم بھی یوں ٹِھٹھرتے ہو؟
انسانوں کے رتبے سے
روز ہی تو تم اترتے ہو
خود نیّا اپنی ڈبوتے ہو
اور پھر خود ہی مُکرتے ہو

58