| اس نے دستار خود گرا دی ہے |
| ظلم کے حق میں گر منادی ہے |
| چپ ہے مظلوم پہ عدالت بھی |
| وقت کی ایک خامی عادی ہے |
| کیسے اشرافیوں کا دوراں کہ |
| سرکشی کو یہاں پناہ دی ہے |
| حق کی آواز دب گئی کب سے |
| شہرِ باطل میں شور عادی ہے |
| جس کے ہاتھوں میں خون چمکے ہے |
| وہ یہ کہتا ہے امن کافی ہے |
| بیچ بازارِ زر پرستی میں |
| آدمی آج خود فسادی ہے |
| ارشدؔ اب سچ اگر لکھو گے تو |
| ہر طرف ایک برہمی سی ہے |
| مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی |
معلومات