| پھوٹ پڑیں مشرق سے کرنیں |
| حال بنا ماضی کا فسانہ |
| گونجا مستقبل کا ترانہ |
| بھیجے ہیں احباب نے تحفے |
| اٹے پڑے ہیں میز کے کونے |
| دلہن بنی ہوئی ہیں راہیں |
| جشن مناؤ سال نو کے |
| نکلی ہے بنگلے کے در سے |
| اک مفلس دہقان کی بیٹی |
| افسردہ مرجھائی ہوئی سی |
| جسم کے دکھتے جوڑ دباتی |
| آنچل سے سینے کو چھپاتی |
| مٹھی میں اک نوٹ دبائے |
| جشن مناؤ سال نو کے |
| بھوکے زرد گداگر بچے |
| کار کے پیچھے بھاگ رہے ہیں |
| وقت سے پہلے جاگ اٹھے ہیں |
| پیپ بھری آنکھیں سہلاتے |
| سر کے پھوڑوں کو کھجلاتے |
| وہ دیکھو کچھ اور بھی نکلے |
| جشن مناؤ سال نو کے |
معلومات