جتنا محبوب سے میں ملتا ہوں
اتنا عرصہ خوشی میں رہتا ہوں
دور محبوب سے جو رہتا ہوں
سسکیاں بھرکے میں تڑپتا ہوں
جب بھی تڑپاتا ہے فراق مجھے
آگ میں بے دھوئیں کی جلتا ہوں
اب تو مل جا مجھے مرے محبوب
بس یہی التجا میں کرتا ہوں
تپتے صحرا پہ جیسے بارش ہو
عین وہ آس تجھ سے رکھتا ہوں
چاہنے والے تیرے ہوں گے بہت
میں تو بس ایک تجھی پہ مرتا ہوں
یہ فقد شاعری نہیں ہے ذکیؔ
"دل کی باتیں غزل میں کہتا ہوں"

0