| دیمک کی طرح غم بھی یہ چپکے سے پل گیا |
| ہنستا ہوا وجود تھا اندر سے گل گیا |
| یادوں کا اک ہجوم تھا سینے میں عمر بھر |
| اک نام کیا لیا کہ مرا دل مچل گیا |
| آنکھوں میں اک چراغ بڑی دیر تک رہا |
| پھر شام جب ہوئی وہ اندھیروں میں جل گیا |
| جس شاخ پر امید کا اک گھونسلہ بنا |
| اس شاخ کو خزاؤں کا موسم نگل گیا |
| بارش میں دھل گئی کئی چہروں کی گرد بھی |
| ہر شخص ہی فریب تھا، یہ راز کھل گیا |
| اپنوں کے درمیاں بھی رہا اجنبی سا میں |
| ہر ایک شخص وقت کے سانچے میں ڈھل گیا |
| لکھنے کے اس ہنر کا عجب معجزہ ہوا |
| ہر زخم میرے دل کا قرینے سے سِل گیا |
| ساگر یہ زندگی میں عجب حادثہ ہوا |
| اک جھوٹ کی تپش سے مرا گھر پگھل گیا |
معلومات