یوسفِ دہر تمہیں اب بھی نظر آئے گا
تم زلیخا کی نظر سے اُسے ڈھونڈو تو سہی
سینکڑوں ہوں گے پل بھر میں خریدار پیدا
مصر سا تم کوئی بازار سجا لو تو سہی
انگلیاں آج بھی کٹ کٹ کے گریں گی جانا
اپنے رُخسار سے زُلفوں کو ہٹا دو تو سہی

21