| کنِج تنہائی میں دل ہی دل میں باتیں آپ کی |
| ہم کو دیتی ہیں سکوں مشکل میں باتیں آپ کی |
| ۔ |
| بزم سے جو بھی اٹھا بن کے وہ دیوانہ اٹھا |
| دیر تک ہوتی رہیں محفل میں باتیں آپ کی |
| ۔ |
| ہے تقاضا یہ جنوں کا جو مؤرخ بھی لکھے |
| درج ہوں پھر قصۂ کامل میں باتیں آپ کی |
| ۔ |
| ہم بھی آسانی سے سر کرتے گئے ہر اک مقام |
| راحت افزا، دورئ منزل میں باتیں آپ کی |
| ۔ |
| آخر اعدا بھی مدثر کر گئے یہ اعتراف |
| رنگ بھرتی تھیں ہر اک محفل میں باتیں آپ کی |
معلومات