مَدُھر خاموشیوں میں بھی صدا کوئی سہانی ہے
کسی کی بات میں مخفی کوئی گہری کہانی ہے
کسی کے ساتھ چلنے میں بڑا ہی لطف ہے بے شک
مگر تنہائیوں سے دوستی اپنی پرانی ہے
وہ چُپ رہتا ہے دے کر ڈھیل آخر ہے پکڑ لیتا
عدالت اس نے دنیا میں بھی کوئی تو لگانی ہے
نہ جانے کیا کشش ہے تیری سادہ سی نگاہوں میں
نظر ملتے ہی دیکھی اک چمک جو آسمانی ہے
میں اپنے دل کی دنیا سے بہت کم بات کرتا ہوں
مگر سن لوں جو تیری گفتگو تو کامرانی ہے
محبت نام ہے شاید کسی کا دل سے ہونے کا
جدائی سے ہو دکھ مل کر خوشی بھی ناگہانی ہے
ہمیں تو وقت نے ہر موڑ پر یہ بات سمجھائی
جو مل جائے وہی نعمت جو کھو جائے کہانی ہے
چراغِ دل جلا رکھنا اندھیروں سے نہ گھبرانا
یہی تو زندگی کی ایک رسمِ پاسبانی ہے
محبت ہے کسی کے درد کو اپنا سمجھ لینا
کسی کے زخم پر مرہم محبت کی نشانی ہے
نہ منزل کی طلب باقی نہ رستے کا کوئی شکوہ
ترے نقشِ قدم پر ہی قدم رکھنا روانی ہے
وہ جس کی مسکرا ہٹ دیکھ کر دکھ دور ہو جائے
اسے بھولیں بھی کیسے یاد اس کی جاودانی ہے
سنو طارِق یہی تو عشق کا ہے وہ ثمر شیریں
جو اس کی یاد میں بیتے وہی تو زندگانی ہے

0
6