یہ عدو گر نہ دِکھے پھر تو نظر ہے دشمن
غیر مسلم تو ہیں، داعش بھی مگر ہے دشمن
اے مسلمان ذرا جھانک گریباں میں بھی
پہلے اس کو تو پکڑ جو ترے گھر ہے دشمن
عزم، امید، وفا، رختِ سفر میں باندھو
ساتھ ہتھیار رکھو راستے پر ہے دشمن
وہ تو جیون سے بھرے لوگوں میں پھل بانٹتا ہے
کتنے ناداں ہیں سمجھتے ہیں شجر ہے دشمن
دشمنوں کا ہے مرے جسم پہ قابو کتنا
ہے جنوں سر کا، تو پیروں کا سفر ہے دشمن

0