عاقبت کو سنوار لیتے ہم
اپنا جیون سدھار لیتے ہم
چھوڑ کے کام دھندے دنیا کے
اپنے رب کو پکار لیتے ہم
اس کے کہنے پہ گر جو چلتے ہم
کتنا اللہ سے پیار لیتے ہیں ہم
گر خدا کا نہ ساتھ ہوتا تو
کیسےخود کو سہار لیتے ہم
آزمائے کو آزما بیٹھے
دل کو بہتر تھا مار لیتے ہم
گرخدا کا جو در نہیں ہوتا
تو کہاں پر قرار لیتے ہم
جاناں تیری خوشی کو یوں کرتے
پھول کے بدلے خار لیتے ہم
طاہرہ مسعود

0
2