فکر امت کی سدا رہتی بھی کیسی
یوم و شب دھن اک لگی ہوتی بھی کیسی
دین کی خاطر ستم ہوئے گوارہ
نہ شکایت لب پہ کوئی تھی بھی کیسی
زندگی قربان کر دی ساری اپنی
حکم کی تعمیل جو ہوئی بھی کیسی
فتح مکہ جب ہوئی نصرت سے حاصل
ہر کسی کو پھر اماں بخشی بھی کیسی
ضابطہ آفاق واضح ہونا ہی تھا
رب نے آبائی زمیں بخشی بھی کیسی
اسوہ ہے قرآن ناصر نور کامل
شوق سے پڑھ لے, تو ہو خوشی بھی کیسی

0
39