سب کا ہونا بجا ہے تیری سمت
جانتے ہیں خدا ہے تیری سمت
نہ لگے دل کو بخت کی ٹھوکر
دوڑ کر آ رہا ہے تیری سمت
لفظ رعنائی سن کے رخ سب کا
خود بخود ہو گیا ہے تیری سمت
شہر میں تیرے ہو گئی ہے جاب
ایک رستہ کھُلا ہے تیری سمت
دوسرے کی تلاش جاری ہے
وقت کا اک سرا ہے تیری سمت
جانے تقدیر اب کہاں لے جائے
کہہ تو میں نے دیا ہے تیری سمت
کھو نہ جائے قمرؔ کی بینائی
جس طرح دیکھتا ہے تیری سمت
قمرآسیؔ

8