کیا محبّت سبق سکھاتی ہے
زندگی جب بھی آزماتی ہے
تم مرے پاس آ کے بیٹھو تو
دل کو اک بات یاد آتی ہے
تیری آواز کا کہوں میں کیا
خامشی بھی غزل سناتی ہے
تیری آنکھوں میں دیکھ لیتا ہوں
وہ جو دنیا نہیں دکھاتی ہے
تیرا ہنسنا کمال کرتا ہے
ایک دنیا بدل سی جاتی ہے
دیکھتا ہوں تجھے کَنَکھیوں سے
دل سے یوں دل تلک تو جاتی ہے
فاصلے تجھ سے دور کیسے کریں
یاد تیری قریب لاتی ہے
طارق اس کو بھلا نہ پاؤں گا
نام پر جس کے سانس آتی ہے

0
6