یقیں جب تک بنا کامل نہیں ہے
مزہ اعمال میں حاصل نہیں ہے
ندارد رزقِ طیب ہو چلا تو
دعاؤں میں اثر شامل نہیں ہے
ضعیف و ناتواں پر تُو کرم کر
عطا کا تیرے بھی ساحل نہیں ہے
عمل سے کوری گزری زندگی ہے
کسوٹی کے مگر قابل نہیں ہے
بمثلِ زندہ کہلائے گا وہ ہی
جو یادِ مولا سے غافل نہیں ہے
فنا ہر چیز ہو جائے گی اک دن
رہے پچھتاوا گر عامل نہیں ہے
اشارہ کافی ناصؔر ہے سمجھنے
نہ سمجھے کوئی وہ عاقل نہیں ہے

0
17