اگر دھوکہ حقیقت ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر الٹا بھی سیدھا ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر بایاں بھی دایاں ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر مغرب بھی مشرق ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر ظالم حکومت ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر قاتل معزز ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر انصاف بکتا ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر جھوٹا بھی سچا ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر ڈاکو محافظ ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر دہقان بھوکا ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر منصف بھی ڈرتا ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر تاریخ جھوٹی ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر سوچوں پہ پہرا ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر سلطان ظالم ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر قانون اندھا ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر منزل نہ ملتی ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر خدمت دکھاوا ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر مقروض ملت ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر تعلیم ناقص ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر رہبر اکیلا ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
اگر دستور ٹوٹا ہو
مجھے حیرت نہیں ہوتی
میں اب پاگل سا لگتا ہوں
مجھے حیرت نہیں ہوتی

0
2