| عدل جب مفقود ہو دل میں سکوں رہتا نہیں |
| ظلم کی آہٹ سے کوئی گوشہ بھی بچتا نہیں |
| ہم نے دیکھا ہے کہ جب حق دب گیا اہلِ ہوس |
| پھر کسی بستی میں امن و آشتی آتا نہیں |
| عدل کی بنیاد پر قائم ہے دنیا کا نظام |
| ورنہ طاقت کا تلاطم کوئی حد رکھتا نہیں |
| ظلم کے خنجر نے چیرے ہیں کئی انسانی دل |
| زخم جب تقدیر بن جائے تو وہ بھرتا نہیں |
| رہگزر میں عدل ہو تو امن خود آ جاتا ہے |
| ورنہ دعووں سے کبھی انصاف تو ملتا نہیں |
| عدل کی دولت ہو میسر جس کسی کو بھی حَسَن |
| وہ کبھی ظلم و ستم کے سامنے جھکتا نہیں |
معلومات