| غزل |
| بدل گیا ہے جو موسم کا ذائقہ کچھ اور |
| درخت چپ ہیں، پرندوں نے بھی کہا کچھ اور |
| کوئی تو تھا جو مرے ساتھ رات بھر جاگا |
| سحر ہوئی تو چڑھا سر پہ تھا نشّہ کچھ اور |
| میں اپنے دل کی مسافت سے لوٹ تو آیا |
| مگر یہ جانا کہ ، چلنا ہے راستہ کچھ اور |
| تمام شہر کو تقسیم کی گئی خوشبو |
| لبادہ پھول کو پہنا دیا گیا کچھ اور |
| وہ ایک شخص جو خاموشیوں میں رہتا تھا |
| زبانِ حال سے دیتا ہے وہ صدا کچھ اور |
| کبھی تو ریت بھی دریا کا خواب دیکھے گی |
| یہ سوچ کر ہی تو صحرا بھی سو گیا کچھ اور |
| ہمیں خبر تھی کہ لفظوں میں قید کیا ہوگا |
| سو دل نے درد کو بخشی کوئی دوا کچھ اور |
| چراغ جلتے رہے، رات کٹ گئی لیکن |
| افق پہ صبح نے لکھا ہوا پڑھا کچھ اور |
| غزل نے آج بھی طارِقؔ کو گھر نہ پہنچایا |
| دریچہ شعر نے بے شک ہے وا کیا کچھ اور |
معلومات