ہمارے دَرمیاں حائل جو پَردہ چاک ہو جائے
تو اُس جانِب چُھپا کیا ہے یِہ سَب اِدراک ہو جائے
اُسے تو پِھر دُعاؤں کی کوئی حاجت نَہِیں رَہتی
وہ جِس پر مہرباں میرا شَہِ لولاک ہو جائے
مُجھے اَیسا لَگے میں بھی مَدینے ہو کے آیا ہُوں
یِہ دِل اِن سَب گُناہوں سے اگر جو پاک ہو جائے
بُہت سارے مسائل ایک ہی چُٹکی میں حَل سَمجھو
دِلِ بُزدِل ذرا سا بھی اگر بیباک ہو جائے
جو میں نے اَب کے ٹھانی ہے میں وہ کر کے رَہوں گا اَب
اُسے کَہنا کہ جِتنا ہو سَکے سَفَّاک ہو جائے
کَبھی جی چاہتا ہے اَب یِہ سَب کُچھ اور بھی سَنورے
کَبھی جی چاہتا ہے اَب یِہ سَب کُچھ خاک ہو جائے
ہمیں اُس سے مَحبَّت تھی یِہ عُقدہ تَب ہی کُھلتا ہے
کِسی کی یاد میں جَب آنکھ بھی نَمناک ہو جائے
ہمارے دُشمَنوں پَر بھی ہمارا خوف لازِم ہے
ہمارے دوستوں پَر بھی ہماری دھاک ہو جائے
چلو کُچھ دِن تو مرزا جی تَصنُع میں گُذاریں ہَم
چلو کُچھ دِن ہماری بھی تو اُونچی ناک ہو جائے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
5