میرا دھیاں فلک کے ستاروں میں بٹ گیا
تو کیا گیا کہ راستہ منزل سے کٹ گیا
کتنی ہی تیز دھوپ ہے بادل نہیں کوئی
وہ موسمِ بہارِ محبت بھی چھٹ گیا
آنکھوں میں دھول جمنے لگی تیری راہ کی
یہ دل غبارِ دردِ اذیت میں اٹ گیا
ہر اک طرف ہی گہرے سمندر کی موج ہے
جانے کہاں کوئی مری کشتی الٹ گیا
کس کے دیے کی لو ہے ہواؤں کے روبرو
یہ کس کا حوصلہ ہے جو جذبوں پہ ڈٹ گیا
ساگر یہی ہوا ہے سرِ راہ عشق میں
دستار گر گئی کبھی سر تن سے کٹ گیا

0
4