چَل نِکْلے ہیں، مَنْزِلِ جَاں تَک جَائیں گے
مَرتے مَرتے، سَچ سَب کو کَہہ جَائیں گے
جَب تَک دَم ہے، ڈَرْنا ہَم کو آتا نَہِیں
رَاہِ حَق میں، مَنْزِل کو پَا جَائیں گے
مَر مِٹْنا ہے، جُھکْنا ہَم نے سِیکھَا نَہِیں
حَق کی خَاطِر، دُنیا سے ٹَکْرا جَائیں گے
حَق کی خَاطِر، سَب کو یہ بَتْلا دیں گے
اَپْنی ہَسْتی، رَاہِ حَق میں گَنوا دیں گے
تِیرگئِ دوراں سے جو گھبرا جائیں
ہم وہ نہیں، سورج بن کر چمکائیں گے
باطل کی ہر چال کو الٹا کر کے ہم
سچ کا ہی پرچم ہر سو لہرائیں گے
زنجیروں کی گونج سے ڈرنا کیسا ہے
ہنس کر دار و رسن پہ بھی ہم مسکائیں گے
راہِ وفا میں چاہے جو بھی بیتے اب
اپنا وعدہ آخر تک ہی نبھائیں گے
ظلمت کے طوفاں کو چیر کے نکلیں گے
روشنیوں کا اک دربار سجائیں گے
حَق کی مَشْعَل، رَوشَن رَکْھنا اَے عَادِل!
ظُلْم کی کالی شب، ہَم تم کو دعا دیں گے

0
4