جانِ دو عالم سید و سرور
پیارے نبی کونین کے دلبر
ہستی اُن سے ساری ہے جھل مل
روشن اُن سے اوجِ پہ اختر
گنج سخا ہیں نور و ضیا ہیں
بانٹیں سدا جو فیض کے دفتر
اُن سے جگ مگ عالمِ ہستی
پاک ہیں جو کونین میں طاہر
عرش سجائیں آپ کے جلوے
خرد نہ سمجھے نوری پیکر
ہستی کی جاں جانِ لطافت
ذاکر و شاکر حاضر و ناظر
حاصل جس کو اُن کی غلامی
روشن جانیں اُس کے مقدر
گھبرایا محمود تو کیسے
تیرے نبی سلطان ہیں دلبر

0
1