وقت کے بازار میں ہر شخص تنہا ہو گیا
اس قدر دنیا سے کھیلا خود کھلونا ہو گیا
درد سب کے بانٹ لینا جس کا شیوہ ہو گیا
دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا اپنا ہو گیا
روشنی تقسیم کرنے کا نتیجہ یہ ہوا
اک دیا ایسا جلا سورج کا ہمتا ہو گیا
ہم نے سچ کے ساتھ چلنے کی فقط ہمّت جو کی
جھوٹ خود اپنے ہی ہاتھوں آپ رسوا ہو گیا
خوف کے جنگل میں جب آوازِ حق کی تھی بلند
لمحہ بھر کو سنگ دل ہر ایک چہرہ ہو گیا
دوستی اب صرف تصویرِ تعلق رہ گئی
سامنے بیٹھا ہوا بھی اجنبی سا ہو گیا
گھر بڑے ہوتے رہے، پر دل سکڑتے ہی گئے
آدمی سامان کا آخر کو بندہ ہو گیا
طارقؔ اپنے لفظ میں خوشبو بسانے سے ہمیش
پھول مرجھایا ، معطّر پھر بھی لہجہ ہو گیا

0
8