| وقت کے بازار میں ہر شخص تنہا ہو گیا |
| اس قدر دنیا سے کھیلا خود کھلونا ہو گیا |
| درد سب کے بانٹ لینا جس کا شیوہ ہو گیا |
| دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا اپنا ہو گیا |
| روشنی تقسیم کرنے کا نتیجہ یہ ہوا |
| اک دیا ایسا جلا سورج کا ہمتا ہو گیا |
| ہم نے سچ کے ساتھ چلنے کی فقط ہمّت جو کی |
| جھوٹ خود اپنے ہی ہاتھوں آپ رسوا ہو گیا |
| خوف کے جنگل میں جب آوازِ حق کی تھی بلند |
| لمحہ بھر کو سنگ دل ہر ایک چہرہ ہو گیا |
| دوستی اب صرف تصویرِ تعلق رہ گئی |
| سامنے بیٹھا ہوا بھی اجنبی سا ہو گیا |
| گھر بڑے ہوتے رہے، پر دل سکڑتے ہی گئے |
| آدمی سامان کا آخر کو بندہ ہو گیا |
| طارقؔ اپنے لفظ میں خوشبو بسانے سے ہمیش |
| پھول مرجھایا ، معطّر پھر بھی لہجہ ہو گیا |
معلومات