بجھ گیا جب دل تو اندر اک دیا روشن ہوا
ایک طوفاں اٹھا اور پھر راستہ روشن ہوا
کون تھا وہ جو مٹا اور مجھ کو بخشا اپنا روپ
کس کے ہونے سے یہ میرا خاکہ سا روشن ہوا
راہ میں جتنے بھی پتھر تھے سبھی گوہر بنے
تُو نے جس جا پر بھی رکھ دی نقشِ پا روشن ہوا
موت کی آغوش میں جب سو گیا تھا اضطراب
میری مٹی سے محبت کا دیا روشن ہوا
اس کی آنکھوں سے گرے آنسو تو چمکا میرا بخت
اس کا دامن بھیگنے پر معجزہ روشن ہوا
اپنے آنگن کی فضا میں دھوپ جب پھیلی تو کیا
وہ جو غیروں کے نگر میں جا بجا روشن ہوا
بے نشاں قبروں سے پوچھا کون ہے مجھ سا دکھی
دور صحرا میں تو کوئی مقبرہ روشن ہوا
تیرگی تو کٹ گئی پر اس اجالے کے طفیل
جسم میرا جل گیا اور حوصلہ روشن ہوا

0
4