تم سامنے ہو دل میں اک روشنی رہتی ہے
جب دور نظر سے ہو بس بے کلی رہتی ہے
چاہت نے تمھاری ہی جینے کا ہنر بخشا
دھڑکن میں تمھارے بن اک جاں کنی رہتی ہے
گفتار سے تیرے ہی مہکے ہے فضا دل کی
موسم پہ بھی ورنہ طاری بے رخی رہتی ہے
پہلو میں تمھیں پا کر ہر غم کو بھلاتا ہوں
آنکھوں میں جو تم نہ ہو بس تیرگی رہتی ہے
اللہ شگفتہ ہی رکھے تمھیں اے جانم
تم سے تو شگفتہ یہ دنیا مری رہتی ہے

0
5