| دھند اتنی ، درِ ادراک سے باہر ہیں ابھی |
| اس کا حصہ ، سرِ افلاک سے باہر ہیں ابھی |
| کہنا چاہا تھا کہ رک جاؤ مگر کہہ نہ سکا |
| یہ گزارش مری اوقات سے باہر ہے ابھی |
| اک ردا اس کا تقاضہ ہے مگر سمجھے تو |
| جسم میرا مری پوشاک سے باہر ہے ابھی |
| دل تو کہتا ہے بسا لیں اسے دل میں اپنے |
| زخم اس کے دلِ صد چاک سے باہر ہیں ابھی |
| قصہ اس عمر کا شاہدؔ جو گزاری نہ گئی |
| پر وہ قصہ مرے اوراق سے باہر ہے ابھی |
معلومات