ظلم کی ظلمت نے تو اپنی وحشت کرتے رہنا ہے
ہم نے چراغِ فکر جلا کر محنت کرتے رہنا ہے
کوئی بھی مانے یا نہ مانے حق کے علم برداروں کو
سچ کی خاطر ہر باطل سے حجت کرتے رہنا ہے
شوقِ طلب جب جاگ اٹھا تو پاؤں کے چھالے کیسے
راہِ وفا میں خاک نشینو! ہجرت کرتے رہنا ہے
ہم کو بکھرنے کا کیا ڈر ہے سنگ تراشوں کی خاطر
ہم نے پتھر سے بھی تراش کے مورت کرتے رہنا ہے
شہرِ منافق طعنے مارے، تیر چلائے جو چاہے
اپنا کام تو یارو سب سے الفت کرتے رہنا ہے
چھین سکیں گے کب زنجیریں اُڑنے کا ارمان مرا
رہ کے قفس میں اب بھی پروں کو رفعت کرتے رہنا ہے
جب تک دم میں دم ہے ہم کو رسمِ جہاں سے ہٹ کر بھی
اہلِ قلم کی زندہ دلی کی بیعت کرتے رہنا ہے

0
4