| اے میرے ہمدم سنبھل کے چلنا، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے |
| ہمیشہ اپنا خیال رکھنا، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے |
| یہ مسکراتے ہیں جتنے چہرے، دلوں میں ان کے وفا نہیں ہے |
| فریب کھاکے بہک نہ جانا ، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے |
| کسی کو اپنا سمجھ کے یہ غم، زباں پے ہرگز کبھی نہ لانا |
| کہ راز کو راز رہنے دینا ، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے |
| یہ بھیڑ ہے بس، ہجوم ہے بس، اسے سہارا نہیں سمجھنا |
| گرے گا جب خود ہی دیکھ لینا، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے |
| بہت سے ہاتھوں میں دیکھا مصحف ، دلوں میں خوف خدا نہیں ہے |
| سو اپنا ہر حال رب سے کہنا، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے |
| جسے تو اپنا سمجھ رہا ہے، وہ تیرے غم سے نہ آشنا ہے |
| یہ بوجھ سارا اکیلے سہنا ، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے |
| یہ رات لمبی، ہوا مخالف، چراغِ امید بن کے ہر دم |
| اندھیری راہوں میں خود چمکنا ، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے |
| بھنور میں کشتی اگر پھنسی تو ، کنارہ ملنا تجھے ہے مشکل |
| سو ناخدا بن کے خود ہی بہنا، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے |
| خدا سے ہی لو لگا منور ، وہی ہے سچا سہارا سب کا |
| اسی کے در پے ترا ٹھکانا، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے |
معلومات