| نظر رکھنے سے تیرے میری استعداد بڑھتی ہے |
| گھٹا کرتی ہے ہر ہر چیز تیری یاد بڑھتی ہے |
| مرے لب پر دہائی ہے تو کارن بھی کوئی ہو گا |
| تمہارا جور بڑھتا ہے، مری فریاد بڑھتی ہے |
| وہاں خود انحصاری ہے کہ جو ایمان سے خالی |
| یہاں سیلاب مانگیں ہم کہ یوں امداد بڑھتی ہے |
| اگر بیٹوں کو کوئی پیڑ سے تعبیر کرتا ہے |
| نہیں ملتا ہے پھل ان سے فقط تعداد بڑھتی ہے |
| کوئی ناداں کو سمجھائے طریقِ حق ہی اپنائے |
| فرنگی طرز سے بدنامیِ اجداد بڑھتی ہے |
| بڑے بھرپور شعروں کا رہا بھی انتخاب اپنا |
| سلیقہ رکھ نہیں پائے کہ کیسے داد بڑھتی ہے |
| نوازا ہے خدا نے اس کو حسرتؔ سرو قامت سے |
| اسی قد کے سبب تو عزتِ شمشاد بڑھتی ہے |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۳۰ مارچ، ۲۰۲۶ |
| Rasheedhasrat119@gmail.com |
معلومات