ہر اک دعا میں ہر اک آرزو میں شامل ہے
وطن کا عشق ہمارے لہو میں شامل ہے
کریں برائے وطن اپنی جان بھی قرباں
اسی نماز کی نیت وضو میں شامل ہے
اسی کی خوشبو سے مہکی ہے میری خاموشی
وطن کا تذکرہ ہر گفتگو میں شامل ہے
عروج سبز ہلالی کا دیکھنا ہے مجھے
یہی تمنا مری جستجو میں شامل ہے
بلادِ غیر کے نشّے سے رکھتا ہے محفوظ
یہ جامِ عشقِ وطن جو سبو میں شامل ہے
ملے ہیں زخم جو اپنوں سے پیاری دھرتی کو
ہماری سعی بھی اس کے رفو میں شامل ہے
شرابِ حبِ وطن ہے مری رگوں میں قمرؔ
مثالِ رزق بدن کی نمو میں شامل ہے
قمرآسیؔ

0
3