لشکر سجا تو لب پہ دعا ہی رہی سدا
تلوار سے بلند وفا ہی رہی سدا
میدانِ کارزار میں بھی رحم کی ہوا
آئینۂ جمالِ خدا ہی رہی سدا
بدر و اُحد میں عدل کا پرچم بلند تھا
منظور جو رضائے خدا ہی رہی سدا
خندق کے روز صبر کی ایسی مثال دی
طاقت نہ شاہ اور نہ گدا ہی رہی سدا
فتحِ مبیں ہوئی تو نہ بدلے مزاجِ دل
لب پر نوائے عفو و عطا ہی رہی سدا
دشمن بھی در سے آپؐ کے خالی نہیں گیا
تقسیمِ لطف و مہر و عطا ہی رہی سدا
قیدی کو در سے آپؐ کے ایسی ملی عطا
ہر جا پہ عدل و حق کی بقا ہی رہی سدا
جس نے کبھی ہے سیرتِ اقدس کو پڑھ لیا
اس کی حیات ، نور و ضیا ہی رہی سدا
دنیا نے جنگ دیکھی تو حیران رہ گئی
ہر معرکے میں شانِ غنا ہی رہی سدا
سرکارؐ! آپؐ کی ہے یہ امت پہ اک عطا
نفرت کے درمیاں بھی وفا ہی رہی سدا
ہم پر بھی ایک قطرۂ رحمت نظر ہو یاں
دل میں درود کی جو صدا ہی رہی سدا
ہر اک عمل ہی آپ کا طارق تھا خیرِ خُلق
تلقینِ صبر و صدق و صفا ہی رہی سدا

0
11