کسی سراب سے آخر گلاب نکلا ہے
میں خشک چشمہ تھا مجھ سے چناب نکلا ہے
تمام عمر جسے ڈھونڈتے رہے تھے لوگ
خزانہ مخفی بہ صورت کتاب نکلا ہے
وہ ایک شخص جو رہتا تھا خامشی اوڑھے
سخن کھُلا تو عجب انتخاب نکلا ہے
کِیا گیا ہے سوال اُس سے جب کوئی مشکِل
جواب اُس کا ہر اک لاجواب نکلا ہے
عجیب بات ہے پتھر سمجھ رہے تھے جسے
اسی کے سینے سے چشمہ پُر آب نکلا ہے
زمانہ جس کو فقط اک شکست کہتا تھا
اسی سے فتح کا ہر ایک باب نکلا ہے
ہوا نے جب مرے کاغذ بکھیرے تو یکسر
ورَق ورَق پہ لکھا انقلاب نکلا ہے
میں روشنی کو اندھیروں میں ڈھونڈنے نکلا
چراغ جب بھی بجھا ماہتاب نکلا ہے
دلوں میں نفرتوں کے بیج کب اُگے طارِق
محبّتوں کا شجر کامیاب نکلا ہے

0
8