| تمنا تشنہِ تکمیل ہی رہی میری |
| نہ کوئی سمجھا محبت، نہ دل لگی میری |
| خیالِ دوست نے میرے حواس چھین لیے |
| جمالِ دوست نے کھائی ہے نوکری میری |
| مگر یہ بات فقط آئنے سمجھتے ہیں |
| کوئی تماشہ نہیں ہے شکستگی میری |
| پھر اک مقام پہ اس نے مجھے کیا روشن |
| جہاں وہ ٹھیک سمجھتا تھا روشنی میری |
| وہ شاخ شاخ مجھے کاٹ کر جلاتے ہیں |
| کسی کے کام تو آئی تناوری میری |
| پہنچ گئے ہیں مرے پیروکار منزل پر |
| مجھے سراب دکھاتی ہے رہ روی میری |
| سب ایک دوسرے سے باخبر تو رہتے ہیں |
| محلِ غیر سے بہتر ہے جھونپڑی میری |
| ذرا سی دھند پڑے تو نظر نہیں آتے |
| کریں گے خاک ستارے برابری میری |
| دکھائی دینے لگے ہیں تمام بچھڑے ہوئے |
| مرا گماں ہے قمرؔ باری آ گئی میری |
| قمرآسیؔ |
معلومات