زخم دل کو ضیا سمجھتے ہیں
ہم کہ خود کو دیا سمجھتے ہیں
ہیں ادائیں سبھی محبت کی
یار کو پارسا سمجھتے ہیں
شوخیاں یاد ہیں ہمیں ساری
ہجر کو اک جزا سمجھتے ہیں
ہے جہنم سی زندگی لیکن
کب اسے ہم برا سمجھتے ہیں
ہو گئے ختم الفتوں کے دکھ
ہم خدا کی عطا سمجھتے ہیں
آرزو ہے فریب دنیا میں
آگہی کو صلہ سمجھتے ہیں
اب نہیں بہتے آنکھ کے آنسو
ضبط کی انتہا سمجھتے ہیں
قسم کھاتے نہیں کبھی بھی ہم
دیکھ رسم وفا سمجھتے ہیں
نام لیتے نہیں ہیں شاہد پر
وہ ہمارا گلہ سمجھتے ہیں

0
2